30

ذخیرہ اندوزی کے دور میں مسیحی سماجی ورکر مفت ماسک تقسیم کرنے لگا

  ذخیرہ اندوزی کے دور میں مسیحی سماجی ورکر مفت ماسک تقسیم کرنے لگا، شہریوں کے چہروں پر مسکراہٹ۔ خدمت انسانی کا خوبصورت منظر۔
تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس کے پاکستان میں داخل ہونے کی خبروں کے بعد ماسک بنانے والی انڈسٹری کی تو جیسے چاندی سی ہوگئی۔ مارکیٹ میں دستیاب ماسک ہاتھو ں ہاتھ فروخت ہوگئے۔

جہاں ایک مافیانے سوشل میڈیا و دیگر ذرائع سے عوام میں کرونا وائرس کی دہشت اور خوف پھیلایا وہیں اس مافیا نے ماسک مہنگے داموں فروخت کرنے اور ذخیرہ اندوزی سے پیسے بنانے کا پلان تیار کررکھا ہے۔
ایسے میں لاہور کی سڑکوں پر آپ کو ایک مسیحی سماجی ورکر خدمت انسانی اور فلاح عامہ کے جذبہ سے سرشار نظر آئے گا۔ جو پولیس کانسٹیبلز، ٹریفک پولیس اہلکاروں، سٹوڈنٹس اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے راہ گیروں میں ماسک تقسیم کرتا ہوا نظرآئے گا ۔

یہ نوجوان مسیحی قوم کا مثبت اور تعمیری امیج اجاگر کرتا ہوا نظر آتا ہے تو وہیں مذہبی ہم آہنگی اور انسانیت کا پیغام بھی پھیلا رہا ہے ۔ اس نوجوان کا نام اختر بھٹی ہے جن کا ساتھ دینے کے لیے نعیم مشتاق بھی ہمراہ موجود تھے۔ جو ہمیشہ اپی بساط اور استطاعت کے مطابق انسانیت کے بھلے کے کسی نہ کسی کام میں مصروف کار نظر آتا ہے۔

لاہور کے شہریوں نے اس اقدام کو خوب سراہا اور اختر بھٹی کی اس مثبت ا ور تعمیری کاوش پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔ آیئے کرونا بھگاﺅ مہم میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور عوامی آگاہی اور بھلائی میں اپنا عملی کردار ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں