48

کورونا کے شکار اٹلی کے 72 سالہ پادری نے قربانی کی لازوال داستان رقم کر دی

زندگی اور موت کی کشمکش لاحق ہو جائے تو انسان آخری سانس تک جان بچانے کی لڑائی لڑتا ہے مگر کورونا وائرس کی وبا کے دوران اٹلی کے ایک پادری نے قربانی اور ایثار کی ایک نئی مثال پیش کر دی ہے۔

اٹلی کے شہر میلان کے شمال مشرقی علاقہ برگامو سے تعلق رکھنے والے کورونا وائرس کے شکار 72سالہ کیتھولک پادری گیسپی برارڈیلی نے اپنا آلہ تنفس ایک نوجوان مریض کو دے کر خود فرشتہ اجل کو گلے لگا لیا، ان کی اس قربانی نے لاکھوں لوگوں کی آنکھیں اشکبار کر دیں۔

اٹلی کی نیوز سائیٹ کے مطابق گیسپی برارڈیلی نے وینٹی لیٹر میسر نہ ہونے کے سبب کورونا وائرس کے متاثرہ ایک اجنبی نوجوان کو تشویش ناک حالت میں تڑپتے دیکھا تو میڈیکل اسٹاف سے درخواست کی کہ وہ ان کی مشین اتار کو نوجوان کو لگا دیں۔

ان کی درخواست پر عمل کیا گیا تاہم وینٹی لیٹر کی غیرموجودگی میں پادری کی اپنی حالت بگڑ گئی اور وہ کچھ دیر بعد دم توڑ گئے، گیسپی برارڈیلی کے اس ایثار نے دنیا کے بےشمار لوگوں کے دلوں کو چھو لیا ہے۔

ان کی اس لازوال قربانی کو سراہتے ہوئے صارفین نے لاکھوں کی تعداد میں یہ داستان سوشل میڈیا ویب سائیٹس پر پھیلا دی ہے۔

امریکی میگزین کے ایڈیٹر جیمز مارٹن نے اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ بوڑھے گیسپی برارڈیلی کو جو آلہ تنفس کلیسائی حلقے نے خرید کر فراہم کیا تھا، انہوں نے اسے ایک ایسے نوجوان مریض کی جان بچانے کے لیے دیدیا جسے وہ جانتے تک نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونیوالوں کے لیے گیسپی برارڈیلی مشعل راہ ہیں۔

اسی طرح امریکہ سے تعلق رکھنے والے رومن کیتھولک پادری جان سٹان نے گیسپی برارڈیلی کی کہانی جب اپنے ٹویٹر اکاو ¿نٹ پر شیئر کی تو اسے 10 گھنٹوں میں ایک لاکھ گیارہ ہزار افراد نے پسند کیا اور 28 ہزار کے قریب اسے ری ٹویٹ کیا گیا ہے۔

اس ٹویٹ کے جواب میں برطانیہ کے معروف سیاستدان جارج گیلوے نے 72سالہ پادری کی بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا۔
یاد رہے کہ منگل کی صبح تک اٹلی میں کورونا وائرس کے 63 ہزار 927 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، ان میں سے چھ ہزار 77 افراد کی موت کی تصدیق کی گئی ہے، اٹلی نے اموات کی شرح میں چین کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں