25

ہمیں معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا ہوگا؛ سماجی ورکر اختر بھٹی

اٹک میں طالب علم سے ہیڈ مسٹریس کا مذہبی تعصبانہ رویہ قابل مذمت ہے، روک تھام کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔


لاہور (نوائے مسیحی نیوز) ہمیں معاشرے میں رواداری کو فروغ دینا ہوگا۔اٹک میں طالب علم سے ہیڈ مسٹریس کا مذہبی تعصبانہ رویہ قابل مذمت ہے، روک تھام کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار سماجی ورکر اختر بھٹی نے اٹک میں مسیحی طالب علم سے پرنسپل کے تعصبانہ رویہ کے واقعہ کے رد عمل کے طور پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے اور یہاں اپنے مذہبی عقائد کے مطابق رہنے کا حق سب کو آئین پاکستان دیتا ہے۔ 
تعلیمی اداروں میں ایسا جاہلانہ رویہ اپنانے والے افراد شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ جدوجہد آزادی ، قیام پاکستان اور پھر ملکی ترقی کے لیے تعلیمی ، طبی اور دفاعی شعبے میں اقلیتوں کا کلیدی کردار ہے۔ تعلیم جیسے مقدس پیشے سے وابسطہ افراد کو یہ رویہ زیب نہیں دیتا۔
یاد رہے اٹک کے گورنمنٹ پرائمری سکول ڈھوک فتح کے شرجیل مسیح جو کہ چوتھی کلاس کا طالبعلم ہے سکول کی ہیڈ مسٹرس نے سکول کے نلکا سے پانی پینے پر ماراپیٹا، گالی گلوچ کیا، اور کہا تم چوڑے،مسیحی ہو تم نے نلکا پلید کر دیا ہے اور سکول سے نکال دیا۔شرجیل مسیح سات دن سے سکول نہیں جا رہا۔ سکول انتظامیہ نے شرجیل مسیحی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرکے انسانی وقار اور عزت کی توہین کی ہے سکول انتظامیہ نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 27 کی خلاف ورزی کی ہے۔
اس سلسلے میںمسیحی قوم کا سوشل میڈیا پر ردِعمل اور ہیڈ مسٹریس کے تعصبانہ رویے کی مذمت مسیحی قوم کی بیداری کا ثبوت ہے جس کے باعث وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کو واقعہ کا نوٹس لینا پڑا۔اگر مسیحی قوم ہر ظلم اور زیادتی کے خلاف مل کر کھڑی ہو جائے اور مشترکہ حکمت عملی اپنائے تو آئندہ اس طرح کے تعصبانہ واقعات کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں