56

95 سالہ خاتون جنہوں نے کرونا وائرس کو شکست دے دی

http://nawaemasihi.com/blog/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b4%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%b9%d9%84%db%8c-%da%a9%db%92-72-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d9%be%d8%a7%d8%af%d8%b1%db%8c-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%b1/
برن: سوئٹزر لینڈ میں کرونا وائرس سے صحتیاب ہونے والی 95 سالہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ مرنے سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں تھیں، تاہم اس موذی وائرس کے خلاف جنگ جیت کر وہ بے حد خوش ہیں۔
95 سالہ گرٹروڈ فیٹن چند روز قبل کرونا وائرس کا شکار ہوئیں، حکام کو اطلاع دینے پر ایک ایمبولینس ان کے گھر پہنچی اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال میں وہ ایک ہفتہ آئی سی یو میں رہیں جہاں انہوں نے کرونا وائرس کو شکست دی اور اب وہ صحتیاب ہو کر اپنے گھر پر ہیں۔
فیٹن بتاتی ہیں کہ آئی سی یو میں ایک موقع پر انہوں نے ڈاکٹرز کو منع کردیا کہ وہ انہیں مصنوعی سانس نہ دیں۔ ’میں نے ان سے کہا کہ میں اپنی زندگی جی چکی ہوں اور مجھے سکون سے جانے دو‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز انہیں دن میں 3 بار اینٹی بائیوٹکس دیتے تھے جو براہ راست ان کی رگوں میں انجیکٹ کیے جاتے تھے، انہیں ملیریا کی دوا کلوروکوئن بھی دی گئی۔

فیٹن اب گھر لوٹ آئی ہیں جہاں وہ اپنے آئی پیڈ پر اپنے پوتے، پوتیوں اور پڑپوتے، پڑپوتیوں سے روزانہ بات کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں مرنے سے بالکل خوفزدہ نہیں تھی۔ ’میری عمر اب 95 سال ہے، اب تو جانے کا وقت ہی ہے‘۔
ان کی بیٹی نے بتایا کہ جب انہیں اسپتال سے فون آیا کہ ان کی والدہ کی حالت بگڑ چکی ہے اور انہیں بچانے کے لیے ڈاکٹرز کے پاس صرف 24 گھنٹوں کا وقت ہے تو مجھے لگا کہ ہم انہیں کھو دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ میں روز اپنی والدہ سے بات کرتی تھی اور جس دن میں نے دیکھا کہ وہ بغیر کھانسے بات کر پارہی ہیں تو میں جان گئی کہ ہم جیت گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں